بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ 30 اپریل 1975ع سائیگون۔ آخری دن ہے۔ آخری ہیلی کاپٹر امریکی سفارت خانے کی چھت کے اوپر سے آخری سفارت کاروں کو سوار کر کے اڑان بھرتا ہے۔ جو رہ گئے ہیں، وہ بند دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ یہ تصویر جو پوری دنیا میں پھیل گئی، ایک سپر پاور کو بھاگتے ہوئے دکھا رہی ہے۔

حصۂ دوئم:
افغانستان اور عراق میں اسی غلطی کا اعادہ
بیس سال افغانستان میں۔ دو ٹریلین ڈالر کے اخراجات۔ ہزاروں فوجی ہلاک۔ اور آخر کار، رات کے اندھیرے میں کابل فرار۔ وہی سائگون کا منظر نئے اداکاروں کے ساتھ۔
امریکہ سمجھتا تھا کہ کہ وہ بم برسا کر اور پیسہ بہا کر کسی ملک پر قبضہ کر سکتا ہے۔ لیکن وہ بھول گیا کہ افغانستان کی ہزاروں سالہ ثقافت اور روایات کا وارث ہے اور یہ روایت و ثقافت واشنگٹن کے ایک حکم سے نہیں بدلتی۔ امریکی فوجی نہیں جانتے تھے کہ قبائل کے آپس میں کیا تعلقات ہیں۔

وہ نہیں جانتے تھے کہ ایک افغان کیوں اپنی ناموس کے لئے اپنی جان دینے کے لئے کیوں تیار رہتا ہے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اس سرزمین میں، سب سے اہم سرمایہ ان کا عزمِ مزاحمت ہے؛ وہ مزاحمت و مقاومت جس نے انہیں برسوں تک سوویت اتحاد کے خلاف بھی برقرار رکھا تھا۔ جب امریکیوں شادی کی تقریب پر فضائی حملوں میں دولہا اور دلہن کو مار ڈالا، تو وہ نہ صرف ایک فوج بلکہ ایک پوری نسل کو اپنے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ افغانستان میں 'سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملک امریکہ' بن گیا۔

سنہ 2003 میں، امریکہ نے اس جھوٹے دعوے کے تحت عراق پر حملہ کیا کہ وہاں اجتماعی تباہی کے ہتھیار ہیں۔ صدام کو معزول کیا۔ حکومت بدل دی۔ بیس سال ٹہرا۔ لیکن اگر آج بغداد کی سڑکوں پر لوگوں سے پوچھیں کہ وہ کس سے نفرت کرتے ہیں، تو پہلا نام امریکہ کا لیتے ہیں: کَلَّا کَلَّا امریکا۔
امریکہ شکست کیوں کھاتا ہے
امریکہ اپنی بالادست فوجی طاقت کے، پھر بھی کیوں شکست کھاتا ہے؟ جواب کو سخت طاقت کے سوا کسی اور طاقت میں تلاش کرنا چاہئے۔ امریکہ جو خود کو سپر پاور سمجھتا ہے، اقوام عالم کے سامنے طاقت کی زبان کے سوا کوئی کوئی اور زبان نہیں سمجھتا۔ لیکن یہ طاقت کی زبان، صرف میزائلوں اور فوجی آلات تک محدود نہیں ہے۔ یہ سخت طاقت اور نرم طاقت کا ایک امتزاج ہے جو ایک دوسرے کے سائے میں، جنگ کی تقدیر کا تعین کرتا ہے۔
تسدید (Deterrence) کے لئے شرطِ لازم
ابتدا میں پہلے قدم کی بات کرتے ہیں۔ وہی قدم جو اگر مضبوطی سے اٹھایا جائے تو دشمن کے حسابات اور اندازوں کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ مثلاً دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت پر انحصار کرتے ہوئے ثابت کیا کہ اس کی سلامتی اور آزادی ایک سرخ لکیر ہے جسے کوئی حملہ آور عبور نہیں کر سکتا اور اس کی دفاعی اور تسدیدی طاقت و صلاحیت نے استکباری طاقتوں کے دبدبے کی کھوکھلی عمارت کو ڈھا دیا۔

یہی نکتہ، ایران اور ان ممالک کے درمیان ایک واضح فرق ہے جو امریکی جارحیت کے پہلے ہی قدم امریکی قبضے میں آگئے۔ ایران میں یہ طاقت و استحکام، ایران کی مسلح افواج میں اس سرزمین کے بیٹوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ قوت جس نے آج تک امریکی غنڈہ گردی کو اچھا سبق دیا ہے اور اسے کئی بار پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے؛ جیسے امریکہ کی طرف سے جنگ روکنے کی درخواست اور مفاہمتی یادداشت میں ایران کی شرائط کو قبول کرنا۔ اگرچہ عہدشکنی اس کی فطرت میں ہے لیکن جنگ روکنے کی درخواست اور ایران کی شرائط ماننے کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی قوم پہلے قدم پر فوجی طاقت کی زبان میں اس کے سامنے اچھی طرح نمودار ہونے میں کامیاب رہی ہے۔ لیکن کیا یہ امریکہ کو زمین پر گرا دینے کے لئے کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ